پوٹن کیف کو فتح کرنے سے دستبردار ہو گئے: امریکی وزیر دفاع
امریکہ کے وزیرِدفاع لائیڈ آسٹن نے جمعرات کو کانگریس کی ایک سماعت کے دوران بتایا ہے کہ روس کے صدر ولادیمیر پوٹن یوکرین کے دارالحکومت کیف کو فتح کرنے سے دست بردار ہوگئے ہیں۔ کیوں کہ روسی افواج کو یوکرینی فوج کے ہاتھوں زبردست جوابی ردِعمل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق، آسٹن نے کانگریس میں سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کی سماعت میں کہا کہ ''پوٹن نے سوچا تھا کہ وہ بہت تیزی سے یوکرین پر قبضہ کر سکتے ہیں، بہت تیزی سے اس کے دارالحکومت پر قبضہ کر سکتے ہیں۔ وہ غلط تھے۔''
آسٹن نے کہا کہ ان کے خیال میں پوٹن اب جنوبی اور مشرقی یوکرین پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔
یوکرین میں صحت کے مراکز پر 100 سے زائد حملے ہوئے: عالمی ادارۂ صحت
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے یوکرین میں جاری روسی جنگ میں صحت کی خدمات کے مراکز پر 100 سے زائد حملوں کی تصدیق کی ہے۔
خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کی رپورٹ کے مطابق مطابق ادارے کے سربراہ ٹیڈروس اہیڈہانم گبریئسس نے ایک پریس کانفرنس میں کہا اب تک، ڈبلیو ایچ او نے صحت کی دیکھ بھال کے مراکز پر حملوں کے 103 واقعات کی تصدیق کی ہے جس میں 73 افراد ہلاک اور 51 زخمی ہوئے ہیں۔
ہلاک شدگان میں صحت کے کارکنان اور مریض بھی شامل ہیں۔ گبریئسس نے اسے ایک ''تاریک سنگ میل'' قرار دیا۔
رپورٹ کے مطابق اب تک کے تصدیق شدہ حملوں میں سے 89 میں صحت کی سہولیات متاثر ہوئیں جب کہ باقی میں سے بیشتر نے ایمبولینسز سمیت ٹرانسپورٹ سروسز کو متاثر کیا۔
یوکرین سے روسی مظالم کی مزید مصدقہ اطلاعات آرہی ہیں، بلنکن
امریکہ کے وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے جمعرات کو خبردار کیا کہ جنگ زدہ ملک سے یوکرائنی شہریوں کے خلاف روسی مظالم کی مزید مصدقہ رپورٹس سامنے آ رہی ہیں اور اس عزم کا اظہار کیا کہ ماسکو کا "ایک دن، کسی نہ کسی طرح، احتساب ہو گا"۔
اعلیٰ ترین امریکی سفارت کار نے برسلز میں نیٹو اور اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ کی ایک صف سے ملاقات کے بعد کہا، "روسی حکومت جو کچھ کر رہی ہے اس پرکرب واضح ہے۔"
بلنکن نے بوچا کے مضافاتی علاقے کیف پر روسی حملے کا ایک بیان کیا، جہاں یوکرین کے شہریوں کی 410 لاشیں ملی ہیں، ان میں سے بہت سے لوگ سڑکوں پر مرنے کے لیے چھوڑ گئے۔ اس کے بعد روسی فوج وہاں سے نکل گئی اور اس نے جنوبی اور مشرقی یوکرین کے شہروں پر نئے حملے شروع کر دیں۔
ایک واقع کو بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک عورت اور 40 دیگر افراد کو بوچا ٹاؤن کے ایک چھوٹے سے چوک میں زبردستی لے جایا گیا جہاں پانچ نوجوانوں کو گھٹنے ٹیکنے کا حکم دیا گیا ہے اور پھر ان میں سے ایک کو اس کے سر کے پچھلے حصے میں گولی مار دی گئی۔
یوکرین کے ریلوے اسٹیشن پر روسی راکٹ حملہ، 30 افراد ہلاک 100سے زائد زخمی
مشرقی یوکرین میں واقع ایک ریلوے اسٹیشن پر جمعے کو روسی راکٹ حملوں کے نتیجے میں کم از کم 50 افراد ہلاک جب کہ 100 سے زیادہ زخمی ہوئے۔
ریلوے سے تعلق رکھنے والے اہل کاروں نے بتایا ہے کہ اس اسٹیشن سے ایک ایسے وقت میں شہری آبادی کے انخلا کا عمل جاری تھا، جب خطے کو بڑے پیمانے پر روسی حملوں کے خطرات لاحق ہیں۔
رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق، کراماٹوسک نامی ریلوے اسٹیشن پر دو راکٹ گرے۔ ڈونیسک خطے کے گورنر نے بتایا ہے کہ اُس وقت اسٹیشن پر ہزاروں افراد محفوظ علاقوں کی جانب روانہ ہونے کے لیے موجود تھے۔
یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی نے بتایا ہے کہ میزائل اس وقت گرا جب ہزاروں لوگ ریل گاڑی پر سوار ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔ موصول ہونے والی تصاویر میں ہلاک و زخمی پلیٹ فارم پر پڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، جب کہ گرنے والے راکٹ پر روسی زبان میں تحریر ہے: ''بچوں کے لیے''۔
اے پی نے بتایا ہے کہ روسی وزارت دفاع نے کراماٹوسک شہر کے ریلوے اسٹیشن کو نشانہ بنانے کے الزام کو مسترد کیا ہے۔ دریں اثنا یوکرینی حکام نے کہا ہے کہ ان علاقوں میں جو اب تک روسی افواج کے زیر قبضہ تھے، جنگی جرائم کے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں، جب کہ روسی افواج کی توجہ اب مشرقی یوکرین پر مرکوز ہے۔