کرونا وائرس: پاکستان سے امریکی سفارت خانے کے 75 اہلکار واپس روانہ
پاکستان میں کرونا کی صورت حال کے باعث امریکی سفارت خانے کے 75 اہلکار واپس امریکہ روانہ ہوگئے ہیں۔ یہ افراد خصوصی پرواز کے ذریعے اسلام آباد سے روانہ ہوئے۔
امریکی سفارت خانے کے ترجمان نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ 14مارچ کو امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے کسی بھی سفارتی مشن سے رضاکارانہ واپسی کی اجازت دی تھی۔ اجازت سفارتی اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کے لیے تھی جو خود کو کرونا کے پھیلاؤ کی صورت میں رسک سمجھتے ہیں۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ اجازت ان کے لیے بھی تھی جنہوں نے جائز وجوہات کی وجہ سے کسی اسٹیشن سے رخصت کی درخواست کی تھی۔
اسلام آباد سے 22 مارچ کو امریکی سفارت خانے کے متعدد اہلکار امریکہ روانہ ہوگئے ہیں۔
یہ سفارتی اہلکار ایک نجی کمپنی کی پرواز کے ذریعے اسلام آباد سے روانہ ہوئے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں امریکی شہریوں کو ایمرجنسی ویزا سروسز مہیا کر رہے ہیں۔ امریکی شہریوں سے درخواست ہے کہ وہ اسمارٹ ٹریول انرولمنٹ پروگرام میں خود کو رجسٹر کروائیں۔
ترجمان نے مزید کہا کہ امریکہ مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ ہے۔ امریکی سفارت خانہ پاکستان حکومت، کمپنیوں اور عوام کے ساتھ کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے تعاون جاری رکھیں گے۔
سندھ میں مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان
حکومت سندھ نے اعلان کیا ہے کہ صوبے میں اتوار اور پیر کی رات سے مکمل لاک ڈاون ہو گا اس دوران شہریوں کو گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہو گی۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ لاک ڈاون پر تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ کافی چیزوں پر مشاورت کی گئی یے۔ اس معاملے پر علما کرام، سیاست دانوں اور انتظامیہ سے بھی مشاورت کی گئی ہے۔ جس کے بعد اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لئے آج رات 12 بجے سے لاک ڈاؤن شروع ہو جائے گا۔
سندھ کے وزیر اعلی نے عوام سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کے تعاون کے بغیر ہماری پوری محنت رائیگاں ہو جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک، سیپکو، حیسکو واٹر بورڈ اور ایس ایس جی سی کو ہدایت دی ہے کہ کسی بھی علاقے میں لوڈ شیڈنگ نہ کی جائے۔ چار ہزار سے زیادہ بجلی کا بل قسطوں میں وصول کیا جائے گا۔
اسی طرح سوئی سدرن گیس کمپنی بھی 2000 روپے سے زائد کا بل 10 قسطوں میں وصول کرے گی۔
بھارتی کشمیر میں 31 مارچ تک شٹ ڈاؤن کا اعلان
یوسف جمیل۔ سری نگر
بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے حکام نے کرونا وائرس یا کووڈ -19 کو پھیلنے سے روکنے کے لیے علاقے کے تمام 20 اضلاع میں 31 مارچ تک شٹ ڈاؤن نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم 16 ضروری سروسز اور اشیائے خورد و نوش کی خرید و فروخت کو اس سرکاری حکم نامے سے مستثنےٰ قرار دیا گیا ہے۔
جموں و کشمیر کے چیف سیکرٹری بی وی آر سبھرانیم نے کہاکہ تمام 20 ضلع کمشنرز کو ہدایت دی گئی ہے کہ اتوار 22 مارچ شام 8 بجے سے 31 مارچ تک دفعہ 144 اور ڈیزاسٹر مینجمینٹ ایکٹ 2005 کے تحت اپنے اپنے اضلاع میں بندشیں عائد کریں۔
انسپکٹر جنرل آف پولیس وجے کمار نے کہا ہے کہ یہ یقینی بنانے کے لیے کہ لوگ گھروں میں ہی رہیں، قانون نافذ کرنے والے ادارے کیمروں والے ڈرونز کا استعمال کریں گے۔
بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں کرونا وائرس کے تا حال 17 کیسز سامنے آئے ہیں۔ ان میں سے سب سے زیادہ یعنی 13 مریضوں کا تعلق لداخ، جب کہ جموں میں 3 اور وادئ کشمیر میں صرف ایک مثبت کیس رپورٹ ہوا ہے۔
اتوار کے روز گرمائی صدر مقام سری نگر، پلوامہ اور بڈگام کے قصبوں میں لگاتار چوتھے اور باقی ماندہ وادئ کشمیر میں تیسرے دن لاک ڈاؤن جاری رہا۔ اُدھر جموں کے علاقے میں بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کے 'عوامی کرفیو' کے نفاذ کی اپیل پر لوگوں اور حکومتی اداروں نے بھر پور عمل کیا۔
امریکی آٹو کمپنیاں وینٹی لیٹرز بنائیں گی
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز بتایا کہ امریکہ میں موٹر گاڑیاں بنانے والی تین کمپنیوں کو وینٹی لیٹرز اور دیگر ضروری طبی سامان بنانے کی اجازت دے دی گئی ہے تاکہ ایسے میں ان طبی ضروریات کو پورا کیا جا سکے جن کا سامنا کورونا جیسے ہلاکت خیز وائرس کے دنوں میں ہے۔
جن کمپنیوں کو اجازت دی گئی ہے ان میں جنرل موٹرز، فورڈ موٹرز اور ٹیسلا شامل ہیں۔
ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے صدر ٹرمپ پر اس حوالے سے مخالف ڈیموکریٹس تنقید کر رہے تھے کہ وہ 1950 کے کورین جنگ کے زمانے کے اختیارات کیوں استعمال نہیں کر رہے جن کے تحت امریکی کمپنیوں سے کہا جاتا ہے کہ وہ طبی آلات تیار کریں تاکہ کورونا وائرس سے نمٹا جا سکے۔
صدر نے اب تک اس دباؤ کے خلاف مزاحمت دکھائی ہے تاہم بڑی امریکی کمپنیوں کی جانب سے رضاکارانہ پیش کش کی تعریف کی ہے۔