کرونا وائرس کا انسداد، پی آئی اے کے حفاظتی اقدامات
پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) نے کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے احتیاطی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
پی آئی اے کے اعلامیے کے مطابق تمام طیاروں کو جراثیم کُش ادویہ سے صاف کیا جا رہا ہے۔
پی آئی اے نے اپنی اندرون ملک پروازوں میں عارضی طور پر مسافروں کو کھانا پیش کرنا، اخبارات اور رسائل کی فراہمی بھی بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
بیرون ملک سے آنے والے 3000 کشمیریوں سے انتظامیہ کا رابطہ
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کرونا وائرس سے متاثر ہونے کے شبہے میں ٹیسٹ کرنے کا عمل جاری ہے۔
محکمہ صحت کی جانب سے ابھی تک صرف ایک شخص میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوسکی ہے۔
محکمہ صحت کشمیر کے ترجمان ڈاکٹر ندیم نے بتایا کہ گزشتہ چند دن میں یورپ اور دیگر ممالک سے ضلع میرپور میں داخل ہونے والے 3000 سے زائد تارکین وطن کے طبی معائنے کے لیے انتظامیہ ان سے رابطے میں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایران سے آنے والے مزید 13 زائرین کو میرپور کے آئیسولیشن سینٹر منتقل کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر ندیم کے مطابق کرونا وائرس کی تصدیق کے لیے ان زائرین کے خون کے نمونے اسلام آباد بھیجے جائیں گئے۔
اتوار کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے ٹرانسپورٹ اور کاروبار بند رہا۔
کشمیر میں 24 گھنٹے میں کرونا کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں کرونا وائرس کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔
کشمیر کے محکمہ صحت عامہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق کشمیر میں کل 42 افراد کے کرونا وائرس کے شبہے میں ٹیسٹ کیے گئے۔ جن میں سے 37 کے رزلٹ آچکے ہیں۔ 36 کے رزلٹ نیگٹو آئے ہیں اور ان میں کرونا وائرس موجود نہیں ہے جب کہ ایک نتیجہ پازٹیو آیا ہے۔
محکمہ صحت کے مطابق پانچ افراد کے رزلٹ آنا باقی ہیں۔
پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ روز ایران سے واپس آنے والے 13 زائرین کو میرپور منتقل کر دیا گیا ہے جن کے ٹیسٹ لے کر نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز کو بھیج دیے گئے۔
محکمہ صحت کا عملہ کشمیر کے تمام انٹری پوائنٹس پر موجود ہے اور انتظامیہ کے تعاون سے آنے والے مسافروں کی اسکریننگ کر رہا ہے۔
خیبرپختونخوا میں جزوی لاک ڈاؤن
کرونا وائرس کے پھیلنے کے خدشات کے پیش نظر خیبرپختونخوا حکومت نے سوموار کی صبح سے ہر قسم کی پبلک ٹرانسپورٹ پر سات دن کے لیے پابندی عائد کر دی ہے۔
صوبے میں پہلے ہی سے شاپنگ مالز، ہوٹل، ریستوران وغیرہ کے کھولنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
خیبرپختونخوا حکومت کے ترجمان اجمل وزیر کا کہنا ہے کہ اس وقت صوبے میں کرونا وائرس سے متاثرہ 27 مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے جب کہ دیگر کے ٹیسٹ اور طبی معائنے کے بارے میں نتائج کا انتظار ہے۔
اب کا کہنا تھا کہ صوبے میں اب تک 2 افراد کرونا وائرس سے ہلاک ہوئے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کے اعلامیے کے مطابق سوموار کی صبح 9 بجے سے پہلے تمام بین الاضلاع ٹرانسپورٹ اڈے ہر صورت بند ہونے چاہئیں۔
ادھر جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے ڈپٹی کمشنر محمد عمیر نے کہا ہے کہ 241 زائرین اس وقت ڈیرہ اسماعیل خان کے گومل میڈیکل کالج کے قرنطینہ میں موجود ہیں جب کہ مجموعی طور پر 500 کے قریب زائرین اور اسٹاف گومل میڈیکل کالج تک ہی محدود ہے جنہیں باہر جانے کی اجازت نہیں ہے۔
خیبرپختونخوا کے محکمہ جیل خانہ جات نے بھی صوبے کے مختلف جیلوں میں بند قیدیوں کو کرونا وائرس سے محفوظ رکھنے کے لیے ماسک اور صابن وغیرہ فراہم کیے ہیں۔
انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات نے تمام حکام کو ہدایت کی ہے کہ قیدیوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی تلقین کی جائے۔
صوبائی حکومت نے پہلے ہی قیدیوں کی سزا میں دو دو ماہ کی تخفیف کا اعلان کر چکی ہے۔